150+ Top Allama Iqbal Poetry in Urdu – علامہ اقبال کی شاعری

Allama Muhammad Iqbal is one of the most famous poets in Urdu literature and is known as the National Poet of Pakistan. His poetry inspires people to believe in themselves, think deeply, and work for a better future. Allama Iqbal poetry in Urdu talks about important ideas like self-respect, faith, knowledge, unity, and love for humanity. Because of these powerful messages, Iqbal shayari is still widely read by students, teachers, and poetry lovers today.

In this collection, you will find some of the best Allama Iqbal poetry in Urdu, including famous Iqbal shayari, inspirational quotes for life, and short 2 lines urdu poetry that is easy to read and share. These poetry lines from Kalam-e-Iqbal encourage people to stay strong, think positively, and achieve success in life. Whether you are looking for Allama Iqbal famous poetry, Iqbal quotes, or poetry for students, this collection brings together some of his most meaningful and memorable words.

Allama Iqbal Poetry in Urdu

150+ Top Allama Iqbal Poetry in Urdu - علامہ اقبال کی شاعری

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

Best Allama Iqbal Poetry

Best Inspirational Allama Iqbal Poetry

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

نہ تو زمین کے لیے ہے نہ تو آسمان کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

اب تیرا بھی دور آنے کو ہے اے فقرِ غیّور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر

مٹا دی اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار بنتا ہے

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

Allama Iqbal Poetry for Students

Allama Iqbal Poetry for Students to Keep going

کون رکھے گا ہمیں یاد اس دورِ خود غرضی میں
حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں

ہم کون ہیں کیا ہیں باخدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس
ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں

بنتِ حوا کو نچاتے ہیں سرِ عام محفل میں
کتنے سنگدل ہیں رسمِ حیا یاد نہیں

آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید
سب کچھ یاد ہے مگر خدا یاد نہیں

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

اخترِ شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات

رہِ یک گام ہے ہمت کے لیے عرشِ بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

غریبِ شہر ہوں میں سن تو لے مری فریاد
کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد

مری نوائے غم آلود ہے متاعِ عزیز
جہاں میں عام نہیں دولتِ دلِ ناشاد

گلہ ہے مجھ کو زمانے کی کور ذوقی سے
سمجھتا ہے مری محنت کو محنتِ فرہاد

صدائے تیشہ کہ بر سنگ میخورد دگر است
خبر بگیر کہ آوازِ تیشہ و جگر است

Allama Iqbal Shayari in Urdu

Allama Iqbal Shayari in Urdu

تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

اے جوئے آب! بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمیِ محفل نہ کر قبول

صبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول

ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ

کنارِ دریا خضر نے مجھ سے کہا باندازِ محرمانہ
سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ

حریف اپنا سمجھ رہے ہیں مجھے خدایانِ خانقاہی
انہیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہ

غلام قوموں کے علم و عرفاں کی ہے یہی رمز آشکارا
زمیں اگر تنگ ہے تو کیا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ

خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی؟
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

مری اسیری پہ شاخِ گل نے یہ کہہ کے صیاد کو رلایا
کہ ایسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشیانہ

بصیرا کر لیا کرتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں
کہ شاہیں کے لیے ہے موت کارِ آشیان بندی

Top 10 Allama Iqbal Famous Sher

وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری
نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری

ازل سے فطرتِ احرار میں ہیں دوش بدوش
قلندری و قبا پوشی و کلہ داری

زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انہی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری

وجود انہی کا طوافِ بتاں سے ہے آزاد
یہ تیرے مومن و کافر، تمام زناری!

شیرازہ ہوا ملتِ مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے!

وہ لذتِ آشوب نہیں بحرِ عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کدھر جائے

ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بیاباں سے حدی خواں کدھر جائے

اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد
آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے!

آزادیِ افکار سے ہے ان کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

Allama Iqbal Poetry on Love

عشق کی روشنی سے دل کو منور کر
یہی ہے وہ طاقت جو انسان کو آزاد کرے

جو دل میں ہو سچا جذبۂ محبت
وہ پہاڑوں سے بھی اونچا اُٹھ جائے

محبت وہ نغمہ ہے جو روح کو جگائے
اندھیروں میں بھی امید کا دیا جلائے

دل کی گہرائیوں سے اٹھتا ہے عشق
یہی ہے سببِ حیات اور خوشی کا راز

جو عشق کرے، وہ خودی کی پہچان پائے
اسی میں چھپی ہے دنیا کی اصل شرافت

محبت کی آگ سے جل کر دل صاف ہوتا ہے
یہی ہے وہ روشنی جو ہر تاریکی کو مٹا دے

عشق کی راہ میں صبر اور حوصلہ لازم ہے
یہی راستہ ہے جو انسان کو بلندی تک لے جائے

دل کو محبت سے سجا، نفس کو قربان کر
یہی ہے وہ لمحہ جو تجھ کو کامل بنائے

محبت وہ طاقت ہے جو ہر رکاوٹ پار کر دے
اور انسان کو اپنی تقدیر کا مالک بنائے

جو دل میں عشق پیدا کرے، وہی بلند پروازی کرے
یہی ہے رازِ زندگی اور کامیابی کا پیغام

Short Iqbal Poetry in Urdu 2 Lines

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری محبت کی فراوانی

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد

دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر

Allama Iqbal Poetry Pictures Download

Allama Iqbal Poetry Pictures Download
150+ Top Allama Iqbal Poetry in Urdu - علامہ اقبال کی شاعری
علامہ اقبال کی شاعری

9th November Iqbal Day Shayari

دل مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ

ترا بحر پرسکوں ہے، یہ سکوں ہے یا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابی کنارہ!

تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ

ترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحر نے
مری خاکِ پے سپر میں جو نہاں تھا اک شرارہ

نظر آئے گا اسی کو یہ جہاں دوش و فردا
جسے آ گئی میسر مری شوخیِ نظارہ

Inspirational Allama Iqbal Quotes and Saying

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دلِ ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی

متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گلِ ایراں وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ایک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر
ہو جائے گی تیری مشکل آسان پڑھا کر

پڑھنے کے لیے اگر تجھے کچھ نہ ملے تو
چہروں پہ لکھے درد کے عنوان پڑھا کر

لا ریب تیری روح کو تسکین ملے گی
تو کرب کے لمحات میں قرآن پڑھا کر

آ جائے گا تجھے اقبال جینے کا قرینہ
تو سرورِ کونین کے فرمان پڑھا کر

Allama Iqbal Top Poetry in Urdu​ Text

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

دیتے ہیں اذاں دونوں اسی ایک جہاں میں
ملاں کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوزناک
مردِ حق ہوتا ہے جب مرعوبِ سلطان و امیر

کہہ رہا ہے داستاں بیدردیِ ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانۂ دہقانِ پیر

آہ! یہ قومِ نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیرگیر؟

خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا

یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا

خودی کے زور سے دنیا پہ چھا جا
مقامِ رنگ و بو کا راز پا جا

برنگِ بحر ساحل آشنا رہ
کفِ ساحل سے دامن کھینچتا جا

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

علامہ اقبال کی شاعری

اے بادِ صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی

یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغامِ لبِ ساحل نے دیا
ہے دور وصالِ بحر بھی تو دریا میں گھبرا بھی گئی

عزت ہے محبت کی قائم اے قیس! حجابِ محمل سے
محمل جو گیا عزت بھی گئی غیرت بھی گئی لیلیٰ بھی گئی

کی ترکِ تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی ملی
آوارگیٔ فطرت بھی گئی اور کشمکشِ دریا بھی گئی

نکلی تو لبِ اقبال سے ہے کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی دل محفل کا تڑپا بھی گئی

کہاں اقبالؔ تو نے آ بنایا آشیاں اپنا
نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامانِ رسوائی

شرارے وادیِ ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن
نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تخمِ سینائی

کلی زورِ نفس سے بھی وہاں گل ہو نہیں سکتی
جہاں ہر شے ہو محرومِ تقاضائے خود افزائی

قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہلِ گلستاں کی
نہ ہے بیدار دل پیری نہ ہمت خواہ برنائی

دلِ آگاہ جب خوابیدہ ہو جاتے ہیں سینوں میں
نوا گر کے لیے زہراب ہوتی ہے شکرخائی

نہیں ضبطِ نوا ممکن تو اڑ جا اس گلستاں سے
کہ اس محفل سے خوشتر ہے کسی صحرا کی تنہائی

علامہ اقبال ا​سلامی شاعری

​گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اُس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

نہ ہو نومید نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد

اے مردِ خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top